سرسی26؍نومبر(ایس او نیوز) کچھ دن پہلے منڈگوڈ کے ایک ڈیم کے پاس مچھلی کا شکار کرنے کے لئے گئے ہوئے سرسی تعلقہ داسنکوپّا کے نوجوان عمران کو نامعلوم لوگوں نے بڑے وحشیانہ انداز میں قتل کیا تھا۔اس جرم میں شامل قاتلوں کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے سرسی اور اطراف کے باشندوں نے سرسی ڈی ایس پی کو میمورنڈم دیا۔
کہتے ہیں کہ 20نومبر کو عمران(۱۷سال) ملگی میں واقع دھرما ڈیم پر مچھلی کا شکار کرنے گیا تھا۔ اس وقت شرپسندوں نے تیز دھاروالے ہتھیارسے انتہائی ظالمانہ اور وحشیانہ انداز میں اسے چیر پھاڑ کر قتل کردیا تھا۔کہتے ہیں کہ عمران کی بری طرح کٹی پھٹی لاش دیکھنے کے بعد آس پاس کے لوگوں پرخوف اور دہشت طاری ہوگئی ہے اور اپنے بچوں کو اکیلے کہیں بھیجنے سے بھی لوگ گھبرانے لگے ہیں۔لیکن ابھی تک عمران کے قاتلوں کے سلسلے میں کوئی سراغ سامنے نہیں آیا ہے۔
لوگوں کا خیال ہے کہ یہ قتل کسی سازش کے تحت منصوبہ بند طریقے سے کیا گیا ہے۔اس لئے میمورنڈ م میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ عمران کے قتل کے پیچھے کیا مقصد ہے اور اس کے قاتل کون ہیں ا س کا پتہ پولیس کو جلد سے جلد لگانا چاہیے اور قاتلوں کو گرفتار کرکے انہیں کیفر کردار تک پہنچانا چاہیے۔لوگوں کا کہنا ہے کہ دھرما ڈیم کے اطراف میں غیر اخلاقی سرگرمیاں بہت زیادہ بڑھ گئی ہیں۔ شراب نوشی اور جوا کھیلنے والے گروہ یہاں پر دیکھے جاسکتے ہیں۔اس کے علاو ہ بہت ساری غیر قانونی حرکتیں یہاں ہورہی ہیں۔ اس لئے پولیس کو چاہیے کہ اس علاقے کی نگرانی تیز کرے اور ایسی سرگرمیوں کو لگام دے۔
میمورنڈم قبول کرنے کے بعد ڈی ایس پی ناگیش شیٹی نے کہا کہ قاتلوں کا پتہ لگانے کے لئے منڈگوڈ اور بنواسی پولیس کی دو ٹیمیں بنائی گئی ہیں۔اس ضمن میں تحقیقات آگے بڑھ رہی ہے۔جتنی جلد ممکن ہے قاتلوں کو ڈھونڈ نکالا جائے گا۔اگر مقامی افراد کو بھی اس سلسلے میں کوئی بات پتہ چلے تو اسے پولیس کے علم میں لائیں اور اس معاملے کو حل کرنے میں تعاون کریں۔اس کے علاوہ دھرما ڈیم کے پاس اب پولیس بیٹ کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔
میمورنڈم دینے کے موقع پر اکشئے جکلناور، ناصر میٹے گار، منجو جکلناور، سکندر میٹے گار، عبدل بلن کیری، سرفراز دکاندار، ایریش رنگا پور وغیرہ موجود تھے۔